اسلاموفوبیا کامقابلہ کرنے کے لئے اسلامی ملکوں کا اتحاد ضروری ہے، پاکستانی وزير خارجہ سے ملاقات میں ، متولی آستان قدس رضوی کی تاکید

آستان قدس رضوی کے متولی نے ، دنیا میں اسلاموفوبیا کی مہم کو ، صیہونی حکومت کی خباثت کا نتیجہ قرار دیا اور اس سامراجی سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلامی ملکوں کے اتحاد پر زور دیا ۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشہد مقدس میں حضرت امام علی رضآ علیہ السلام کے روضے کی زیارت کے بعد  حرم مطہر کے متولی حجت الاسلام والمسلمین  احمد مروی سے ملاقات کی ۔ یہ ملاقات امام رضا علیہ السلام کے روضے کے ولایت ہال میں ہوئي ۔ 
حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے اس ملاقات میں امید ظاہر کی   کہ ان کا  یہ دورہ ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان  پہلے سے زیادہ قربت کا باعث بنے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی طاقت ، خودمختاری اور اقتدار کو اپنی طاقت ، خودمختاری اور اقتدار سمجھتے ہیں اور کشمیر کے سلسلے میں پاکستان کے حقیقت پسندانہ مطالبہ اور موقف کی حمایت کرتے ہیں اور اسے صحیح سمجھتے ہیں ۔ 
    انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ علامہ اقبال کے اشعار و افکار ہمیشہ ہمارے لئے قابل احترام رہے ہیں ، کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران  پاکستان کے ساتھ تقریبا نو سو بیس کیلو میٹرطویل مشترکہ سرحد رکھتا ہے اور اسی طرح شعر و ادب ، اہل بیت عصمت و طہارت سے محبت اور نوروز سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک بے شمار اشتراکات کے حامل ہيں ۔ 
    حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے مغرب میں اسلاموفوبیا کی سامراجی سازش کا ذکر کیا اور کہا کہ تمام اسلامی ملکوں کا فریضہ ہے کہ وہ اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائيں اور مغرب میں اسلاموفوبیا کی لہر کا مقابلہ کریں اور اسلام کا دفاع کریں ۔ 
انہوں نے اسلاموفوبیا کو صیہونیت کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ اسلاموفوبیا سے مقابلے کے لئے سب سے پہلے ان پر اسرار طاقتوں کی شناخت ضروری ہے  جو پوری دنیا میں اسلاموفوبیا پھیلا رہی ہیں اور یقینا اس سازش میں صیہونیوں کا بے حد سرگرم کردار ہے ۔ 
حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے کہا کہ صیہونیوں کے دل میں آج بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے دین سے وہی کینہ و عداوت ہے جو آنحضرت کی زندگی میں تھی اور وہ اسلام اور مسلمانوں کو چوٹ پہنچانے کا کوئي بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ 
انہوں نے کہا کہ صیہونیوں نے ظلم و جارحیت کے سہارے اور غلط طریقوں سے اسلامی ملکوں اور مسلمانوں کے ایک علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور اگر کسی دور میں ہٹلر کے جرمنی میں یہودیوں کا قتل ہوا بھی ہے اور اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ہولوکاسٹ تھا تو اس کا تاوان مسلمان کیوں ادا کریں ؟ 
آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی  نے پاکستانی وزير خارجہ سے ملاقات میں زور دیا کہ مسلمانوں کو صیہونیوں کی عداوت اور خباثت آمیز سازشوں کی طرف سے ہوشیار  اور تیار رہنا چاہیے کیونکہ صیہونیوں نے  ، اسلام اورمسلمانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر پروپیگنڈے کرکے پوری دنیا میں اسلام سے خوف و ہراس پیدا کیا اور عملی طور پر بھی داعش کو تشکیل دیا  تاکہ اس طرح سے پوری دنیا میں اسلاموفوبیا کے اپنے منصوبے کو آگے بڑھائيں ۔ 
 انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ داعش کے اقدامات اور رویہ اسلامی تعلیمات اور اصولوں سے کسی طرح بھی مطابقت نہیں رکھتا  ، کہا کہ داعش کو بنانے والے صیہونیوں اور امریکیوں نے داعش کے وحشیانہ اقدامات  کا پوری دنیا میں اسلام کے نام پر پروپیگنڈہ کیا ۔ 
 حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے عالم اسلام کے عظیم جنرل ، شہید قاسم سلیمانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس عظیم ہستی کی کاوشیں ، قربانیاں اور منصوبے نہ ہوتے تو داعش اسلامی ملکوں کا نہ جانے کیا حشر کرتے ۔ 
    انہوں نے کہا کہ سامراجی طاقتوں نے داعش کو شام اور عراق پر قبضے  اور وہاں محض ایک حکومت کی تشکیل کے لئے نہیں بنایا ہے بلکہ داعش ، حقیقت میں صیہونیت کی دوسری شکل ہے اور اسے تمام اسلامی ملکوں پر دباؤ ڈالنے کے لئے بنایا گيا تھا ۔ 
    آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے  اس موقع پر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا  کہ ہر سال تقریبا پانچ لاکھ پاکستانی زائر ، امام رضا علیہ السلام کے روضے کی زیارت کرتے ہیں ۔ انہوں  نے کہا کہ آستان قدس رضوی ، ہر سال تقریبا پانچ لاکھ پاکستانی زائروں کی میزبانی کرتا ہے اور ان زائروں کی لئے جہاں تک ہو سکتا ہے سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ 
    انہوں نے پچھلے  برسوں کے دوران زائرین کی سیکورٹی   کے لئے پاکستانی حکومت کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے  کہا کہ  امام رضا علیہ السلام کے روضے کے اندر اردو بولنے والے زائروں کے لئے خاص جگہوں کا انتظام کیا گيا ہے  جہاں پاکستانی زائروں کی مناسب پذیرائي اور آرام کا بھی خیال رکھا گيا ہے ۔ 
حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے پاکستانی وزير خارجہ شاہ محمود قریشی سے اس ملاقات میں اسی طرح امید ظاہر کی ہے کہ ان کا دورہ ایران ، مختلف شعبوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں پہلے سے زيادہ توسیع کا باعث بنے گا ۔ 

آستان قدس کی جانب سے زائروں کی اچھی میزبانی پر پاکستانی وزیر خارجہ کی جانب سے اظہار تشکر  

پاکستان کے وزير خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اس ملاقات میں پاکستانی زائروں کی وسیع پیمانے پر پذ یرائي کا ذکر کرتے ہوئے آستان قدس رضوی کے متولی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مشہد مقدس اور امام رضا علیہ السلام کا نورانی روضہ ، ہر سال تقریبا پانچ لاکھ پاکستانی زائروں کا میزبان ہوتا ہے اور اس نورانی مقام میں اعلی حفاظتی انتظامات  کی وجہ  سے مستقبل میں اس تعداد میں اضافہ بھی ہوگا ۔ 
    شاہ محمود قریشی نے امام رضا علیہ السلام کے روضے پر اپنی حاضری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا عقیدہ ہے کہ جب تک آپ اس مقدس مقام پر حاضری نہیں دیتے  تب تک آپ کو اس روحانی ماحول کا صحیح ادراک نہیں ہو سکتا ۔
    پاکستان کے وزیر خارجہ نے  اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ دورہ ، اتحاد بین المسلمین کی علامت ہے ، کہا کہ  یہ ملاقات بھی ، میری پیشہ ورانہ ملاقاتوں میں ایک اہم ملاقات ہے اور اس ملاقات کا انتظام کرنے کے لئے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا شکر گزار ہوں ۔  
    انہوں نے ایران دورے میں ، صدر مملکت ، اسپیکر  اور وزیر خارجہ سے ہونے والی اپنی ملاقاتوں کا ذکر کیا اور کہا کہ رہبرانقلاب اسلامی کی جانب سے کشمیری عوام کی پر خلوص حمایتوں پر شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے بارہا کشمیر کے مظلوم عوام کے حق میں بات کی ہے ۔ 
    
    پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اس بات پر مسرت ظاہر کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی جمہوریہ پاکستان ، بہت سے بین الاقوامی امور میں بھی ہم خیال ہيں ، کہا کہ میرا یقین ہے کہ اسلامی ممالک باہمی اتحاد سے عالم اسلام کے لئے بہتر حالات پیدا کر سکتے ہیں ۔ 

Read Previous

Amet dolorem quiquia labore amet quaerat modi.

Read Next

پاکستانی سفیر آستان قدس رضوی کے اقدامات کے دل سے معترف

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے