حضرت عباس(ع) کی 250سو سال سے زیادہ پرانی ضریح الکفیل عجائب گھر میں

الکفیل میوزیم میں روضہ مبارک حضرت عباس(ع) سے تعلق رکھنے والی نادر ونایاب اشیاء کا ایک خزانہ موجود ہے کہ جن میں سے ایک حضرت عباس(ع) کی قبر اقدس پر 250سو سال سے زیادہ پہلے نصب کی جانے والی ضریح بھی ہے۔

الکفیل عجائب گھر کے انچارج صادق لازم نے اس بارے میں بتایا ہے کہ اس ضریح کو 1182 ہجری میں حضرت عباس(ع) کی قبر اقدس پر نصب کیا گیا ہمارے پاس اس ضریح کا صرف ایک حصہ ہے اور باقی حصوں کے بارے میں في الحال یقینی طور کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ آیا انھیں تبرکا یہاں سے لے جایا گیا یا انھیں وہابی اور دیگر حملہ آور اپنے ساتھ لے گئے۔

اس کے علاوہ حضرت عباس علیہ السلام کی موجودہ نئی ضریح کی تنصیب کے پہلے مرحلے میں حضرت عباس علیہ السلام کی پرانی ضریح کو اٹھایا کر اس کے تمام اجزاء کو بہت احتیاط کے ساتھ کھول کر الگ کر لیا گیا اور پھر طے شدہ پروگرام کے مطابق حضرت عباس علیہ السلام کی پرانی ضریح کو الکفیل میوزیم میں منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں اور پرانی ضریح کے جن حصوں میں ترمیم وغیرہ کی ضرورت ہے ان کی مرمت و ترمیم کا کام ضریح ساز ورکشاپ میں کیا گیا اور اس عمل کی تکمیل کر بعد پرانی ضریح کو الکفیل میوزیم میں رکھ دیا گیا کہ جو اس وقت اس میوزیم کا قیمتی اور نادر ترین حصہ ہے.

یاد رہے کہ قمربنی ہاشم علمدارِ وفا حضرت عباس علیہ السلام کی پرانی ضریح کو آیت اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم(قدس سرہ) کے حکم پر بنایا گیا یہ پرانی ضریح ایران کے شہر اصفہان میں دو سال کے عرصے میں تیار ہوئی اور 21نومبر 1965ء کو یہ ضریح کربلا پہنچی اور 12رمضان 1385ہجری 2جنوری1966ء کو اس ضریح کو قبر مبارک پر نصب کرنے کا کام مکمل ہوا اور 15رمضان 1385ہجری بروز منگل 6جنوری1966 کو آیت اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم(قدس سرہ) کربلا آئے اور انہوں نے ضریح سے پردہ ہٹا کر اس کا افتتاح کیا۔
اس پرانی ضریح کو بنانے کے لیے /2000کلو گرام چاندی اور 40کلو گرام سونا استعمال کیا گیا۔ اس ضریح کو ماہر ترین افراد نے نہایت عقیدت و احترم اور مکمل فنی مہارت کے ساتھ بنایا۔ مختلف حرموں میں موجود ضریحوں کی نسبت یہ ضریح دیکھنے میں سب سے زیادہ خوبصورت ہے۔ ضریح کے اوپر والے چاروں کونوں پر سونے کے خوبصورت گلدان بنے ہوئے ہیں اور قدم مبارک کی جانب دائیں طرف چار چھوٹے گلدان بنے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان میں سونے کا ہاتھ بنا ہوا ہے کہ جو حضرت عباس علیہ السلام کے کٹنے والے ہاتھوں کی یاد کو زندہ کرتا ہے۔ سر مبارک کی طرف بائیں جانب پانچ چھوٹے سونے کے گلدان بنے ہوئے ہیں اور چھت کی جانب شمالی اور جنوبی طرف چار چار سونے کے چھوٹے گلدان بنے ہوئے ہیں۔ پرانی ضریح کی اونچائی 4.25میٹر،چوڑائی 4.15میٹر اور لمبائی 5.45میٹر ہے ضریح کے اوپر تین طرف خوبصورت انداز میں آیاتِ قرآنی اور اشعار لکھے ہوئے ہیں دو طرف تو قرآنی آیات ہیں اور ایک طرف مرحوم سید محمد جمال ہاشمی کے اشعار لکھے ہوئے ہیں۔

Read Previous

Assessing Yourself to the Others Psychology

Read Next

Simple Techniques Of Managing Your Limited Student Budget

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے