دعائے استقبال ماہ رمضان

 و كان مِن دعائِه عليه‏السلام اِذا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضان‏
اَلْحَمْدُلِلَّهِ الَّذى هَدانا لِحَمْدِهِ، وَ جَعَلَنا مِنْ اَهْلِهِ، لِنَكُونَ لِاِحْسانِهِ مِنَ الشّاكِرينَ، وَ لِيَجْزِيَنا عَلى‏ ذلِكَ جَزآءَ الْمُحْسِنينَ. وَالْحَمْدُ لِلَّهِ‏الَّذى حَبانا بِدينِهِ،وَاخْتَصَّنابِمِلَّتِهِ، وَ سَبَّلَنا فى سُبُلِ اِحْسانِهِ، لِنَسْلُكَها بِمَنِّهِ اِلى‏ رِضْوانِهِ، حَمْداً يَتَقَبَّلُهُ‏مِنّا، وَيَرْضى‏ بِهِ عَنّا. وَالْحَمْدُ لِلَّهِ‏الَّذى جَعَلَ مِنْ تِلْكَ السُّبُلِ شَهْرَهُ شَهْرَ رَمَضانَ، شَهْرَ الصِّيامِ، وَ شَهْرَ الِاْسْلامِ، وَ شَهْرَ الطَّهُورِ، وَ شَهْرَ التَّمْحيصِ، وَ شَهْرَ الْقِيامِ، الَّذى اَنْزَلَ فيهِ الْقُرْانَ، هُدىً لِلنّاسِ وَ بَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى‏ وَ الْفُرْقانِ، فَاَبانَ فَضيلَتَهُ عَلى‏ سآئِرِ الشُّهُورِ بِما جَعَلَ لَهُ مِنَ الْحُرُماتِ الْمَوْفُورَةِ، وَ الْفَضآئِلِ الْمَشْهُورَةِ، فَحَرَّمَ فيهِ مااَحَلَّ فى غَيْرِهِ اِعْظاماً، وَ حَجَرَ فيهِ الْمَطاعِمَ وَالْمَشارِبَ اِكْراماً، وَ جَعَلَ لَهُ وَقْتاً بَيِّناً لايُجيزُ – جَلَّ وَ عَزَّ – اَنْ يُقَدَّمَ قَبْلَهُ، وَ لايَقْبَلُ اَنْ يُؤَخَّرَ عَنْهُ، ثُمَّ فَضَّلَ لَيْلَةً واحِدَةً مِنْ لَياليهِ عَلى‏ لَيالى اَلْفِ شَهْرٍ، وَ سَمّاها لَيْلَةَ الْقَدْرِ، تَنَزَّلُ الْمَلائِكَةُ وَ الرُّوحُ فيها بِاِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ، سَلامٌ، دآئِمُ الْبَرَكَةِ اِلى‏ طُلُوعِ الْفَجْرِ عَلى‏ مَنْ يَشآءُ مِنْ عِبادِهِ بِما اَحْكَمَ مِنْ قَضآئِهِ. اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى‏ مُحَمَّدٍ وَ الِهِ، وَ اَلْهِمْنا مَعْرِفَةَ فَضْلِهِ وَ اِجْلالَ حُرْمَتِهِ، وَ التَّحَفُّظَ مِمّا حَظَرْتَ فيهِ، وَ اَعِنّا عَلى‏ صِيامِهِ بِكَفِّ الْجَوارِحِ عَنْ مَعاصيكَ، وَ اسْتِعْمالِها فيهِ بِما يُرْضيكَ، حَتّى‏ لا نُصْغِىَ بِاَسْماعِنا اِلى‏ لَغْوٍ، وَ لا نُسْرِعَ بِاَبْصارِنا اِلى‏ لَهْوٍ، وَ حَتّى‏ لانَبْسُطَ اَيْدِيَنا اِلى‏ مَحْظُورٍ، وَ لانَخْطُوَ بِاَقْدامِنا اِلى‏ مَحْجُورٍ، وَ حَتّى‏ لا تَعِىَ بُطُونُنا اِلاّ ما اَحْلَلْتَ، وَ لاتَنْطِقَ اَلْسِنَتُنا اِلاّ بِما مَثَّلْتَ، وَ لانَتَكَلَّفَ اِلاّ ما يُدْنى مِنْ ثَوابِكَ، وَ لانَتَعاطى‏ اِلاَّ الَّذى يَقى مِنْ عِقابِكَ، ثُمَّ خَلِّصْ ذلِكَ كُلَّهُ مِنْ رِئآءِ الْمُرآئِينَ، وَ سُمْعَةِ الْمُسْمِعينَ، لا نَشْرَكُ فيهِ اَحَداً دُونَكَ، وَلانَبْتَغى فيهِ مُراداً سِواكَ. اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى‏ مُحَمَّدٍ وَ الِهِ، وَ قِفْنا فيهِ عَلى‏ مَواقيتِ الصَّلَواتِ الْخَمْسِ بِحُدُودِهَا الَّتى حَدَّدْتَ، وَ فُرُوضِهَا الَّتى فَرَضْتَ، وَ وَظآئِفِهَا الَّتى وَظَّفْتَ، وَ اَوْقاتِهَا الَّتى وَقَّتَّ، وَ اَنْزِلْنا فيها مَنْزِلَةَ الْمُصيبينَ لِمَنازِلِها، الْحافِظينَ لِاَرْكانِها، الْمُؤَدّينَ – لَها فى اَوْقاتِها عَلى‏ ما سَنَّهُ عَبْدُكَ وَ رَسُولُكَ – صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَ الِهِ – فى رُكُوعِها وَ سُجُودِها وَ جَميعِ فَواضِلِها عَلى‏ اَتَمِّ الطَّهُورِ وَ اَسْبَغِهِ، وَ اَبْيَنِ الْخُشُوعِ وَ اَبْلَغِهِ، وَ وَفِّقْنا فيهِ لِاَنْ نَصِلَ اَرْحامَنا بِالْبِرِّ وَالصِّلَةِ، وَاَنْ نَتَعاهَدَ جيرانَنا بِالْاِفْضالِ وَ الْعَطِيَّةِ، وَ اَنْ نُخَلِّصَ – اَمْوالَنا مِنَ التَّبِعاتِ، وَ اَنْ نُطَهِّرَها بِاِخْراجِ الزَّكَواتِ، وَ اَنْ نُراجِعَ مَنْ هاجَرَنا، وَ اَنْ نُنْصِفَ مَنْ ظَلَمَنا، وَ اَنْ نُسالِمَ مَنْ عادانا، حاشى‏ مَنْ عُودِىَ فيكَ وَ لَكَ، فَاِنَّهُ الْعَدُوُّ الَّذى لانُواليهِ، وَ الْحِزْبُ الَّذى لانُصافيهِ، وَ اَنْ نَتَقَرَّبَ اِلَيْكَ فيهِ مِنَ الْاَعْمالِ الزّاكِيَةِ بِما تُطَهِّرُنا بِهِ مِنَ الذُّنُوبِ، وَ تَعْصِمُنا فيهِ مِمّا نَسْتَاْنِفُ مِنَ الْعُيُوبِ، حَتّى‏ لايُورِدَ عَلَيْكَ اَحَدٌ مِنْ مَلائِكَتِكَ اِلاَّ دُونَ ما نُورِدُ – مِنْ اَبْوابِ الطَّاعَةِ لَكَ، وَ اَنْواعِ الْقُرْبَةِ اِلَيْكَ. اَللَّهُمَّ اِنّى اَسْئَلُكَ بِحَقِّ هذَا الشَّهْرِ، وَ بِحَقِّ مَنْ تَعَبَّدَ لَكَ فيهِ مِنِ ابْتِدآئِهِ اِلى‏ وَقْتِ فَنآئِهِ: مِنْ مَلَكٍ قَرَّبْتَهُ، اَوْ نَبِىٍّ اَرْسَلْتَهُ، اَوَ عَبْدٍ صالِحٍ اخْتَصَصْتَهُ، اَنْ تُصَلِّىَ عَلى‏ مُحَمَّدٍ وَ الِهِ، وَ اَهِّلْنا فيهِ لِما وَعَدْتَ اَوْلِيآئَكَ مِنْ كَرامَتِكَ، وَ اَوْجِبْ لَنا فيهِ ما اَوْجَبْتَ لِأَهْلِ الْمُبالَغَةِ فى طاعَتِكَ، وَاجْعَلْنا فى نَظْمِ مَنِ اسْتَحَقَّ الرَّفيعَ الْاَعْلى‏ بِرَحْمَتِكَ. اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى‏ مُحَمَّدٍ وَ الِهِ، وَ جَنِّبْنَا الْاِلْحادَ فى تَوْحيدِكَ، وَ التَّقْصيرَ فى تَمْجيدِكَ، وَ الشَّكَّ فى دينِكَ، وَ الْعَمى‏ عَنْ سَبيلِكَ، وَ الْاِغْفالَ لِحُرْمَتِكَ، وَ الْاِنْخِداعَ لِعَدُوِّكَ الشَّيْطانِ الرَّجيمِ. اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى‏ مُحَمَّدٍ وَ الِهِ، وَ اِذا كانَ لَكَ فى كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ لَيالى شَهْرِنا هذا رِقابٌ يُعْتِقُها عَفْوُكَ، اَوْيَهَبُها صَفْحُكَ، فَاجْعَلْ رِقابَنا مِنْ تِلْكَ‏الرِّقابِ، وَاجْعَلْنا لِشَهْرِنا مِنْ خَيْرِ اَهْلٍ وَ اَصْحابٍ. اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى‏ مُحَمَّدٍ وَ الِهِ، وَ امْحَقْ ذُنُوبَنا مَعَ امِّحاقِ هِلالِهِ، – وَ اسْلَخْ عَنّا تَبِعاتِنا مَعَ انْسِلاخِ اَيّامِهِ، حَتّى‏ يَنْقَضِىَ عَنّا وَ قَدْ صَفَّيْتَنا فيهِ مِنَ الْخَطيئآتِ، وَ اَخْلَصْتَنا فيهِ مِنَ السَّيِّئاتِ. اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى‏ مُحَمَّدٍ وَ الِهِ، وَ اِنْ مِلْنا فيهِ فَعَدِّلْنا، وَ اِنْ زُغْنا فيهِ فَقَوِّمْنا، وَ اِنِ اشْتَمَلَ عَلَيْنا عَدُوُّكَ الشَّيْطانُ فَاسْتَنْقِذْنا مِنْهُ. اَللَّهُمَّ اشْحَنْهُ بِعِبادَتِنا اِيّاكَ، وَ زَيِّنْ اَوْقاتَهُ بِطاعَتِنا لَكَ، وَ اَعِنّا فى نَهارِهِ عَلى‏ صِيامِهِ، وَ فى لَيْلِهِ عَلَى الصَّلوةِ وَالتَّضَرُّعِ اِلَيْكَ وَ الْخُشُوعِ لَكَ، وَ الذِّلَّةِ بَيْنَ يَدَيْكَ، حَتّى‏ لا يَشْهَدَ نَهارُهُ عَلَيْنا بِغَفْلَةٍ، وَ لا لَيْلُهُ بِتَفْريطٍ. اَللَّهُمَّ وَ اجْعَلْنا فى سآئِرِ الشُّهُورِ وَ الْاَيّامِ كَذلِكَ ما عَمَّرْتَنا، وَاجْعَلْنا مِنْ عِبادِكَ الصّالِحينَ الَّذينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فيها خالِدُونَ، وَ الَّذينَ يُؤْتُونَ ما اتَوْا وَ قُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلى‏ رَبِّهِمْ راجِعُونَ، وَ مِنَ الَّذينَ يُسارِعُونَ فِى الْخَيْراتِ وَ هُمْ لَها سابِقُونَ. اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى‏ مُحَمَّدٍ وَ الِهِ، فى كُلِّ وَقْتٍ وَ كُلِّ اَوانٍ، وَ عَلى‏ كُلِّ حالٍ عَدَدَ ما صَلَّيْتَ عَلى‏ مَنْ صَلَّيْتَ عَلَيْهِ، وَ اَضْعافَ ذلِكَ كُلِّهِ بِالْاَضْعافِ الَّتى لا يُحْصيها غَيْرُكَ، اِنَّكَ فَعّالٌ لِما تُريدُ.
ترجمہ :
تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے اپنی حمد وسپاس کی طرف ہماری رہنمائی کی اور ہمیں حمد گزاروں میں سے قراردیا تا کہ ہم اس کے احسانات پر شکر کرنے والوں میں محسوب ہوں اور ہمیں اس شکر کے بدلہ میں نیکو کاروں کا اجر دے ۔ اس اللہ کے لیے حمد ستائش ہے جس نے ہمیں اپنا دین عطا کیا اور اپنی ملت میں سے قرار دے کر امتیاز بخشا او راپنے لطف واحسان کی راہوں پر چلایا ۔ تا کہ ہم اس کے فضل وکرم سے ان راستوں پر چل کر اس کی خوشنودی تک پہنچیں ۔ ایسی حمد جسے وہ قبول فرمائے او رجس کی وجہ سے ہم سے وہ راضی ہو جائے ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے لطف واحسان کے راستوں میں سے ایک راستہ اپنے مہینہ کو قرار دیا یعنی رمضان کا مہینہ ، صیام کا مہینہ ، اسلام کا مہینہ ، پاکیزگی کا مہینہ ،تصیفہ کا مہینہ ، عبادت وقیام کا مہینہ ۔ وہ مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا ۔ جو لوگوں کے لیے رہنما ہے ۔ ہدایت اور حق وباطل کے امتیاز کی روشن صداقیتں رکھتا ہے چنانچہ تما م مہینوں پر اس کی فضلیت وبرتری کو آشکار کیا۔ ان فراواں عزتوں اور نمایاں کی وجہ سے جو اس کے لیے جو چیزیں دوسرے مہینوں میں جائز کی تھیں ا س میں حرام کر دیں ۔ اور اس کے احترام کے پیش نظر کھانے پینے کی چیزوں سے منع کر دیا اور ایک واضع زمانہ اس کے لیے معین کر دیا خدائے بزرگ وبرتر یہ اجازت نہیں دیتا کہ اسے اس کے معینہ وقت سے آگے بڑھا دیا جائے اور نہ یہ قبول کر تا ہے کہ اس سے موخر کر دیا جائے پھر یہ کہ اس کی راتوں میں سے ایک رات کو ہزار مہینوں کی راتوں پر فضلیت دی اور اس کا نام شب قدر رکھا۔ اس رات میں فرشتے اور روح القدس ہر اس امر کے ساتھ جو اس کا قطعی فیصلہ ہوتا ہے اس کے بندوں میں سے جس پر وہ چاہتا ہے نازل ہوتے ہیں وہ رات سراسر سلامتی کی رات ہے جس کی برکت طلوع فجر تک دائم وبرقرار ہے اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ہدایت فرما کہ ہم اس مہینہ کے فضل وشرف کوپہچانیں ۔ اس کی عزت وحرمت کو بلند جانیں او راس میں ان چیزون سے جن سے تو نے منع کیاہے اجتناب کریں ۔ اس کے روزے رکھنے میں ہمارے اعضاء کو نافرمانیوں سے روکنے اور ان کاموں میں مصروف رکھنے سے جو تیری خوشنودی کا باعث ہوں ہماری اعانت فرما، ت اکہ ہم نہ بیہودہ باتوں کی طرف کان لگائیں ، نہ فضول چیزوں کی طرف بے محا با نگائیں اٹھائیں ، نہ حرام کی طرف ہاتھ بڑھائیں نہ امر ممنوع کی طرف پیش قدمی کریں نہ تیری حلال کی ہوئی چیزوں کے علاوہ کسی چیزکو ہمارے شکم قبول کریں اور نہ تیری بیان کی ہوئی باتوں کے سوا ہماری زبانیں گویا ہوں صرف ان چیزوں کے بجا لانے کا بار اٹھائیں جو تیرے ثواب سے قریب کریں اور صرف ان کاموں کو انجام دیں جو تیرے عذاب سے بچالے جائیں پھر ان تمام اعمال کو ریا کاروں کی ریا کاری اور شہرت پسندوں کی شہرت پسندی سے پاک کر دے اس طرح کے تیرے علاوہ کسی کو ان میں شریک نہ کریں اور تیرے سوا کسی سے کوئی مطلب نہ رکھیں اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اس میں نماز ہائے پنچگانہ کے اوقات سے ان حدود کے ساتھ جو تو نے معین کیے ہیں ا ن واجبات کے ساتھ جو تو نے عائد کیے ہیں اور ان آداب کے ساتھ جو تو نے قرار دیئے ہیں اور ان لمحات کے ساتھ جو تو نے مقرر کئے ہیں آگاہ فرما اور ہمیں ان نمازوں میں ان لوگوں کے مرتبہ پر فائز کر جو ان نمازوں کے درجات عالیہ حاصل کرنے والے ان کے واجبات کی نگہداشت کرنے والے اور انہیں ان کے اوقات میں اسی طریقہ پر جو تیرے عبد خاص اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع وسجود اور ان کے تمام فضلیت وبرتری کے پہلوؤں میں جاری کیا تھا ، کامل اور پوری پاکیزگی اور نمایاں ومکمل خشوع وفروتنی کے ساتھ ادا کرنے والے ہیں اور ہمیں اس مہینہ میں توفیق دے کہ نیکی واحسان کے ذریعہ عزیزوں کے ساتھ صلہ رحمی اور انعام وبخشش سے ہمسایوں کی خبر گیری کریں اور اپنے اموال کو مظلوموں سے پاک وصاف کریں او رزکوة دے کر انہیں پاکیزہ وطیب بنا لیں ۔ اور یہ کہ جو ہم سے علیحدگی اختیار کرے اس کی طرف دست مصالحت بڑھا ئیں جو ہم پر ظلم کرے اس سے انصاف برتیں ۔ جو ہم سے دشمنی کرے اس سے صلح وصفائی کریں ، سوائے اس کے جس سے تیرے لیے اور تیری خاطر دشمنی کی گئی ہو ۔ کیونکہ وہ ایسا دشمن ہے جسے ہم دوست نہیں رکھ سکتے اور ایسے گروہ کا (فرد) ہے جس سے ہم صاف نہیں ہو سکتے اور ہمیں اس مہینہ میں ایسے پاک وپاکیزہ اعمال کے وسیلہ سے تقرب حاصل کرنے کی توفیق دے جن کے ذریعہ تو ہمیں گناہوں سے پاک کر دے اور از سر نو برائیوں کے ارتکاب سے بچا لے جائے یہاں تک کہ فرشتے تیری بارگاہ میں جو اعمال نامے پیش کریں وہ ہماری ہر قسم کی اطاعتوں اور ہر نوع کی عبادت کے مقابلہ میں سبک ہوں اے اللہ ! میں تجھ سے اس مہینہ کے حق وحرمت اور نیز ان لوگوں کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں جنہوں اس مہینہ میں شروع سے لے کر اس کے ختم ہونے تک تیری عبادت کی ہو وہ مقرب بارگاہ فرشتہ ہو یا نبی مرسل یا کوئی مرد صالح وبرگزیدہ کہ تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائے اور جس عزت وکرامت کا تو نے اپنے دوستوں سے وعدہ کیا ہے اس کا ہمیں اہل بنا اورجو انتہائی اطاعت کرنے والوں کے لیے تو نے اجر مقرر کیا ہے وہ ہمارے لیے بھی مقرر فرما اور ہمیں اپنی رحمت سے ان لوگوں میں شامل کر جنہوں نے بلند ترین مرتبہ کا استحقاق پیدا کیا ۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آ ل پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اس چیز سے بچائے رکھ کہ ہم توحید میں کج اندیشی ، تیری تمجید وبزرگی میں کوتاہی ، تیرے دین میں شک ، تیرے راستہ میں بے راہروی اور تیری حرمت سے لا پرواہی کریں اور تیرے دشمن شیطان مردود سے فریب خوردگی کا شکار ہوں اے اللہ ! محمدا ورا ن کی آل پر رحمت نازل فرما اور جب کہ اس مہینے کی راتوں میں ہر رات میں تیرے کچھ ایسے بندے ہوتے ہیں جنہیں تیرا عفووکرم آزاد کرتا ہے یا تیری بخشش ودرگزر انہیں بخش دیتی ہے تو ہمیں بھی انہی بندوں میں داخل کر او ر اس مہینہ کے بہترین اہل واصحاب میں قرار دے ۔اے اللہ ! محمد اور ا ن کی آل پر رحمت نازل فرما اور اس کے چاند کے گھٹنے کے ساتھ ہمارے گناہوں کو بھی مھو کر دے اورجب اس کے دن ختم ہو نے پر آئیں تو ہامرے گناہوں کا وبال ہم سے دور کر دے تا کہ یہ مہینہ اس طرح تمام ہو کہ تو ہمیں خطاؤں سے پاک اور گناہوں سے بری کر چکا ہو۔اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمااور اس مہینہ میں اگر ہم حق سے منہ موڑیں تو ہمیں سیدھے راستہ پر لگا دے اور کجروی اختیار کریں تو ہماری اصلاح ودرستگی فرما اور اگر تیرا دشمن شیطان ہمارے گرد احاطہ کرے تو اس کے پنجے سے چھڑالے ۔ بارالہا! اس مہینہ کا دامن ہماری عبادتوں سے جو تیرے لئے بجا لائی گئی ہو ں بھر دے اوراس کے لمحات کو ہماری اطاعتوں سے سجا دے اور اس کے دنوں میں روزے رکھنے اور اس کی راتوں میں نمازیں پڑھنے ، تیرے حضور گڑگڑانے ، تیرے سامنے وعجز والحاح کرنے اور تیرے رو برو ذلت وخواری کا مظاہرہ کرنے ان سب میں ہماری مدد فرما۔ تاکہ اس کے دن ہمارے خلاف غفلت کی اور اس کی راتیں کوتاہی وتقصیر کی گواہی نہ دیں ۔ اے اللہ ! تمام مہینوں اور دنوں میں جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ایسا ہی قرار دے اور ہمیں ان بندوں میں شامل فرما جو فردوس بریں کی زندگی کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث ہوں گے ۔اوروہ کہ جو کچھ وہ خدا کی راہ میں دے سکتے ہیں دیتے ہیں پھر بھی ان کے دلوں کو یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ انہیں اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانا ہے اوران لوگوں میں سے جو نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور وہی تو لوگ ہیں جو بھلائیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں ۔ اے اللہ !محمد اور ان کی آل پر ہر وقت اور ہر گھڑی او رہر حال مین اس قدر حمت نازل فرما جتنی تو نے کسی پر نازل کی ہو او ران سب رحمتوں سے دوگنی چوگنی کہ جسے تیر ے علاوہ کوئی شمار نہ کر سکے ۔ بیشک تو جو چاہتا ہے وہی کرنے والا ہے۔

Read Previous

زیارت امام علی رضا علیہ السلام

Read Next

دعائے جوشن کبیر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے