حجاب کی دلکشتی اسلام کی جانب مائل ہونے کا سبب بنی ، نو مسلم خاتون کے تاثرات

سینٹیاگو شہر، (Santiago) کی مسجد دارالسلام، کے گلدستے سے اذان ظہر کی آواز آتی ہے اور شہر کے مسلمان فریضۂ نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد میں داخل ہوتے ہیں۔

مسلمان خواتین کو اسلامی لباس میں دیکھ کر کلوروریڈا کی نگاہیں ان پر جم جاتی ہیں، ایک دن وہ ان مسلم خواتین کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت شروع کر دیتی ہے اور دین اسلام کے بارے میں پوچھنے لگتی ہے۔ ایسا لگتا ہے گویا فرشتے اسے اسلام کی دعوت دے رہے ہوں۔ اسلام کے بارے میں اس کی جستجو بڑھ جاتی ہے اور وہ شہر کی لائبیریریوں اور تحقیقی مراکز کی طرف حقیقت کی تلاش میں کھنچی چلی جاتی ہے۔  تقریبا” ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد وہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اب اپنی تحقیق اور ریسرچ امام رضا علیہ السلام کے حرم میں جاکر شروع کرے گی۔ یہاں آکر وہ کلمۂ شہادتین اپنے لبوں پر جاری کرتی ہے۔ ہاں، آج کلوروریڈا ، اس ملکوتی آواز پر جو اسے اسلام کی جانب بلا رہی تھی، لبیک کہتے ہوئے اسلام قبول کرلیتی ہے۔ آستان نیوز کے نمائندے کی اس نومسلم خاتون سے گفتگو کچھ اس طرح ہوئی:

آپ کا تعلق کہاں سے اور کس شہر سے ہے اور آپ دین اسلام کی جانب کیسے مائل ہوئیں؟
میں "کلوروریڈا سینٹی بینز” ہوں، میرا تعلق چلّی کے دارالحکومت سینٹیاگو سے ہے۔ اس شہر کی مسجد "دارالسلام” میرے گھر کے نزدیک ہے۔ میں نے اس مسجد سے اذان کی آواز بارہا سنی تھی۔ میں نے مسلمان خواتین کو اسلامی حجاب میں دیکھا تو مجھ میں دلچپسی پیدا ہوئی کیونکہ مجھے مسلمان خواتین کا یہ انداز اچھا لگا تھا۔ میری نگاہ میں عورت اس لباس میں زیادہ اچھی لگتی ہے۔ اس کے علاوہ مجھے ایسا لگا کہ اس لباس کو پہننے والی خواتین زیادہ تحفظ کا احساس کرتی ہوں گی اور معاشرے میں زیادہ بے فکری کے ساتھ آ جا سکتی ہوں گی۔
دین اسلام سے آپ کی دلچسپی کے بعد آپ نے سب سے پہلے کیا سوچا ؟
اس دین کے بارے میں تحقیق اور مطالعہ ۔  میں نے اس سلسلے میں کافی مطالعہ کیا اور آخرکار اس نتیجے تک پہنچ گئی کہ اسلام ہی ایک کامل دین ہے اور اسی دین کو اپنا کر میں سعادت و کامیابی حاصل کرسکتی ہوں۔
آپ اب تک کتنی بار ایران آکر امام رضا علیہ السلام کے روضۂ اطہر کی زیارت کرچکی ہیں؟
ایران کا یہ میرا پہلا سفر ہے اور اس مقدس جگہ یعنی حرم مطہر امام رضا (ع) کی زیارت کا یہ شرف بھی پہلی بار نصیب ہوا ہے۔
جب آپ پہلی بار حرم امام رضا (ع) میں داخل ہوئیں تو آپ کے احساسات کیا تھے؟
پہلی بار جب میں اس مقدس جگہ پر پہنچی تو حرم امام (ع) کے طلائی گنبد پر نگاہ پڑتے ہی مجھے اپنے وجود کے اندر ایک انقلاب بپا ہوتا نظر آیا، ایک ناقابل  بیان اور غیرمعمولی روحانی کیفیت کا احساس جاگ اٹھا  ۔ اس وقت میرے دل و دماغ میں کچھ اور نہیں تھا، ایسا لگتا تھا کہ تمام دنیوی پریشانیوں اور مشکلات  سے مجھے نجات مل گئی ہے۔
اب جب آپ حرم امام رضا (ع) میں مشرف بہ اسلام ہوئی ہیں، تو اس پر آپ کے احساسات اور تاثرات کیا ہیں؟
میں بے حد خوش ہوں۔ یہ معنوی احساس ایسا ہے کہ اسے کوئی بھی زبان بیان کرنے سے قاصر ہے۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ مجھے یہ توفیق حاصل ہوئی کہ شیعوں کے آٹھویں  امام حضرت امام علی رضا علیہ السلام  کی بارگاہ میں مشرف بہ اسلام ہوئی۔
ان روحانی لمحات میں آپ کی سب سے اہم دعا کیا تھی؟
میں نے اللہ سے بس یہی دعا کی کہ وہ میری مدد کرے کہ دین اسلام کی صحیح معنوں میں اور پورے شعور کے ساتھ پیروی کرکے اس دین کے لئےایک مفید فرد ثابت ہوسکوں  ۔
 
آپ نے اپنے نام کے لئے "کلوروریڈا” کے بجائے "روز” کا انتخاب کیوں کیا؟
چونکہ خود اسلام "گلاب” کے پھول کی طرح ایک خوبصورت دین ہے اس لئے میں نے اپنے نام کے لئے اس پھول کے نام کا انتخاب کیا ہے۔
اور آخر میں آپ کیا کہنا چاہیں گی؟
میں آستان قدس رضوی کے تمام ذمہ داروں  اور خصوصی طور پر آستان قدس رضوی کے ادارہ غیر ملکی زائرین کے        کارکنوں اور عہدیدارون کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی جنہوں نے میرے لئے وہ تمام اسباب مہیا کئے جن کی بنا پر میں نے اس مقدس مقام پر آکر اسلام قبول کیا۔ یہاں مجھے ایک جلد کلام اللہ مجید، ایک چادر یعنی وہی خواتین کے اوڑھنے کا پسندیدہ لباس اور حرم مطہر کا عطر تحفے میں ملا ہے۔ میری کوشش ہوگی کہ عمر کے آخری دنوں تک میں ان قیمتی تحفوں کو اپنے پاس محفوظ رکھوں  ۔  

Read Previous

مذہبی امور میں سرگرم بنگلہ دیشی خواتین کے گروپ کا خاتون باغ کیمپ کا دورہ

Read Next

حرمِ ابالفضلؑ کی جانب سے کربلا کے رہائشی علاقوں میں جراثیم کش سپرے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے