آستان قدس رضوی کی لائبریری میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانے کی قدیمی کتب

آستان قدس رضوی کی لائبریری میں ڈیڑھ ہزار خطی نسخے اور مطبوع کتب حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مربوط قدیمی کتب موجود ہیں کہ جن میں سے بعض نسخے ساتویں صدی سے تعلق رکھتی ہیں۔

آستان قدس رضوی کی لائبریری میں ڈیڑھ ہزار خطی نسخے اور مطبوع کتب حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مربوط قدیمی کتب موجود ہیں کہ  جن میں سے بعض نسخے ساتویں صدی سے تعلق رکھتی ہیں۔
آستان نیوز کے خبرنگار کی رپورٹ کے مطابق ، آستان قدس رضوی کے مرکزی میوزیمز ، لائبریریز و مرکز اسنادآرگنائزیشن کے ادارہ مخطوطات کے سربراہ نے اس بیان کے ساتھ کہ  شیعوں کے پانچویں امام اکثر مورخین کے بقول 57 ہجری قمری میں پیدا ہوئے اور تیسری ماہ صفر  ان کی ولادت کی تاریخ درج کی ہے ،  کہا: ڈیڑھ ہزار سے زیادہ خطی نسخے و مطبوع کتب  حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مربوط اور عمومی طور پر تمام ہی معصومین علیہم السلام سے مربوط کتب موجود ہیں  کہ جو ہمیشہ محققین اور اہل مطالعہ کے لیے قابل استفادہ ہیں۔
حجۃ الاسلام نوری نیا نے پہلے خطی نسخوں کے بارے میں "حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا حجاج سے مناظرہ”کی ‎طرف اشارہ کیا اور کہا: اس نسخے میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے حجاج بن یوسف ثقفی اور جروی ہروی کودیے گئے جوابات درج ہیں ،یہ  محرم الحرام 1268ھ میں عبدالجواد بن مومن اردبیلی کے ہاتھوں کربلائے معلی میں خطی نسخے  15 سطری صورت میں نخودی کاغذ پر تحریر ہوا،اس کتاب کا عنوان شنگرف اور جلدتیماج سے بنی ہوئی ہے کہ جس کو سید محمد باقر سبزواری نے  اس نسخہ کو 1405 ہجری قمری میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ منورہ کی لائبریری کو وقف کیا ۔
انہوں نے کہا: دوسرا نسخہ ” حدیث مناظرہ حضرت باقرعلیہ السلام” خطی نسخے 17 سطری نخودی کاغذ پر تحریر ہے اور اس کو موسی گیلانی نے وقف کیا ہے ۔
نوری نیا نے کہا: دعائے سحر کی شرح کے متعدد نسخے بھی موجود ہیں کہ جو حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں اور اسی طرح زیارت عاشورا کے متعدد نسخے کہ جوحضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہوئے ہیں،یہ تمام نسخے مشہور کاتبوں کے ہاتھوں تحریر اورخوبصورت ہنرنمائی سے آراستہ یہاں خزانے میں موجود ہیں۔
آستان قدس رضوی کے ادارہ مخطوطات کے سربراہ نے  فارسی زبان میں "ہدیۃ القاصر من احوالات امام باقرعلیہ السلام” کی طرف اشارہ کیا اور کہا:یہ نسخہ 1287 ہجری قمری میں محمد تقی بن ابی الحسن یزدی کے قلم سے خط نستعلیق میں 17 سطری میں تحریر ہوا ہے  اس کی جلدسیاہ تیماج تھی اور 1430ھ میں حسین علی فرہنگی کے ذریعہ ہدیہ ہوئی ہے ۔
انہوں نے ایک نسخہ بنام "عوالم العلوم والمعارف والاحوال از سیرہ حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام تا حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ” جس کو بطور خلاصہ "عوالم العلوم والمعارف” یا "جامع العلوم والمعارف”کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، تذکرہ کیا اور کہا: اس نسخہ کو عبداللہ بن نور اللہ بحرانی نے 1058ہجری قمری میں تالیف کیا ا وراس کی کتابت خطی نسخے میں غلام حسین  بن محمد ابراہمی محمدآبادی کے ہاتھوں 1238ہجری قمری میں انجام پائی ہے ۔اس خطی نسخے کا کاغذ شکری نخودی آہار مہرہ ہے ، تمام صفحات کے عناوین شنگرف اور اس کی جلد سیاہ تیماج کہ جس کا استر قھوہ ای رنگ کا ہے ۔
نوری نیا نے اس بارے میں مزید کہا: یہ نسخہ حضرت فاطمہ زہراعلیہا السلام، حضرت امام حسن، امام حسین، علی ابن الحسین اور امام محمد باقر علیہم السلام کے حالات میں ہے کہ جس کی اصلاح اور پروف ریڈنگ ہوکر 1410ھ میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی مرکزی لائبریری کو ہدیہ کیا گیا ہے ۔
انہوں نےمطبوع کتابوں میں سے ایک نسخے کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ” تذکرہ حضرت سلطان علی بن امام محمد باقر علیہ السلام و ہلال بن علی علیہ السلام باقسمتی از فضائل سادات آل محمد علیہم السلام” فارسی زبان میں عزیزاللہ امامت کاشانی کی تالیف اور آستان قدس رضوی کی لائبریری کو وقف ہوا کہ جو 1384ہجری قمری میں خط نستعلیق میں تہران میں انجام پایا ہے۔
ادارہ مخطوطات کے سربراہ نے آخر میں ایسے نسخوں کا تذکرہ کیا کہ جن میں بطور کلی چودہ معصومین علیہم السلام کے اقوال و احوال مذکور ہیں کہ جن میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا ذکر ہے ، کہا: کشف الغمہ فی  معرفۃ الآئمہ ، اعتقادات شیخ صدوق، احتجاج شیخ طبرسی ، خرایج و الجرایح، الدمعۃ الساکبہ، فصول المہمہ، مشارق انوار الیقین، کفایۃ الاثر، جلاء العیون، طوفان البکاء، طالب السؤول فی مناقب آل الرسول، ناسخ التواریخ، عذاب النواصب علی الجاحد والناصب، تہذیب الاحکام، تذکرۃ الخواص، بہجۃ المباہج، المناقب، الصافی، التتمہ فی تواریخ الآئمہ، اربعین و غیرہ یہ کتابیں ہیں کہ جو آستان قدس رضوی کے مرکزی لائبریری میں خطی نسخوں میں موجود ہیں کہ جن کی تاریخ ساتویں قرن ہجری سے مربو ط ہیں۔
 

Read Previous

کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے آستان قدس رضوی کی جانب سے انجام پانے والے اقدامات

Read Next

مذہبی امور میں سرگرم بنگلہ دیشی خواتین کے گروپ کا خاتون باغ کیمپ کا دورہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے