ثامن دوا ساز کمپنی میں جراثیم کش دواؤں کی پروڈکشن لائن کا افتتاح

ثامن دواساز کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ اس کمپنی نے جراثیم کش دواؤں کی پروڈکشن لائن شروع کرکے اس کوتیار کرنے کا کام شروع کردیا ہے کہا کہ کرونا وائرس سے بچنے کے لئے مارکیٹ اور عوام کی ڈیمانڈ کے مد نظر یہ کمپنی روزانہ تیس ہزار لیٹرسے زائد جراثیم کش دوائيں تیار کررہی ہے

ثامن دواسازکمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر مجید طبسی نے آستان نیوز سے ایران میں کرونا وائرس   کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وائرس کے پھیلنے کے بعد  ملک میں جراثیم کش دواؤں کی قلت محسوس ہوئی تھی۔ چنانچہ آستان قدس رضوی کے  متولی کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ہم نے ثامن دوا ساز کمپنی کی فیکٹری میں  ایک نئی پروڈکشن لائن کا افتتاح کرکے جراثیم کش دواؤں کی پیداوار کی شرح میں اضافہ کردیا اور اس کے نتیجے میں اب یہ محلول بازار میں آنا  شروع ہو گیا ہے۔   
انہوں نے مزید بتایا کہ ثامن دواساز کمپنی اس سلسلے میں دو قسم کے جراثیم کش محلول تیار کررہی ہے جو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے فارمولے کے مطابق تیار کئے جارہے ہیں۔ مجید طبسی نے کہا کہ ہم نے اپنی لیبارٹری میں اس کی پیداوار شروع کرنے سے پہلے یہ خیال رکھا ہے کہ کرونا وائرس سے مقابلہ کرتے ہوئے، انسانی جسم پر اس محلول کے مضر اثرات کم سے کم ہوں۔ ان میں سے ایک محلول جلد کو نرم کرنے کے لئے مخصوص ہے ، اور دوسرا محلول دیگر سطحوں کے لئے ہے جو وائرس اور جراثیم کو موثر طور پر ختم کر دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ دونوں محلول، آدھا لیٹر، ایک لیٹر اور پانچ لیٹر کی بوتلوں میں کارخانے سے تیار ہوکرنکل رہے ہیں۔ ثامن دواساز کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ ضرورت محسوس ہوئی تو خصوصی طور پر الکحل (ethanol) بھی ہماری دواساز کمپنی تیار کرکے عوام کے لئے اورمختلف مراکز کو سپلائی کرے گی۔      
ثامن دواساز کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے یہ بھی کہا کہ  جب سے کرونا وائرس کا دائرہ وسیع ہوا ہے ان تمام دواؤں کی ڈیمانڈ بازار میں اور عوام کے درمیان بے حد بڑھ گئی ہے  ۔ ان کا کہنا تھاکہ اس وقت ہمارے کارخانے میں روزانہ تین شفٹوں میں کام ہورہا ہے اور لوگوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے جراثیم کش محلول روزانہ تیس ہزار لیٹرسے زائد کی مقدار میں تیار کئے جارہے ہيں۔ اوراگلے ہفتے سے الکحل کی سپلائی کے لئے بھی ہم پوری طرح سے تیار ہيں
طبسی نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ ثامن دواساز کمپنی نے اس محلول کی تیاری کا فیصلہ کرتے وقت کسی بھی قسم کے نفع و نقصان کا خیال نہیں رکھا  ، بلکہ ہمارا زور اس بات پر تھا کہ یہ جراثیم کش مادہ بین الاقوامی اسٹینڈرڈ پر پورا اترے اور فارمولے کے مطابق کم ترین منفی اثرات مرتب کرے اور جب عوام کے ہاتھوں میں پہنچے تو اس کے اثرات پوری طرح ظاہر ہوں۔

Read Previous

آستان قدس میں کرونا وائرس کے نفسیاتی اثرات کی تحقیقات کے لئے خصوصی اجلاس

Read Next

آستان قدس کا اقتصادی مقصد عوام کی خدمت اور سائنسی پیشرفت ہے، متولی آستان قدس

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے