عبداللہ شاہ غازی؛ سندھ میں اسلام کے پہلے مبلغ

شہر کراچی کی قدامت سے کسی کو انکار نہیں۔ اِس کے بارے میں مورخین کا دعویٰ ہے کہ اِس شہر نے پتھر، تانبے اور کانسی سمیت تمام ادوار دیکھے جب کہ اِس شہر کو مختلف وقتوں میں 32 ناموں سے جانا پہچانا گیا۔ کسی نے اِس شہر کو کرو کالا کہا تو کسی نے اسے سکندری جنت، مورون ٹو بارا، دربو، خور علی، قلاچی جو گوٹھ، کلاچی جوکن، کراچر، کراشی، کراچے ٹاؤن، کوراچی و دوسرے ناموں سے بھی پکارا۔

یوں تو گزری، بندر روڈ، منوڑہ اور کیماڑی سمیت مختلف علاقے آج بھی اِس شہر کی قدامت بیان کر تے ہیں مگر اِس شہر کی قدامت کے حوالے سے ایک انگریز مصنف الیگزینڈر ایف بیلی رقم طراز ہے کہ کراچی یا کلاچی ایک قدیم بستی ہے جو کہ زیادہ پھیلی ہوئی تو نہیں مگر اِس کے باوجود یہاں ہندو، عیسائی ، پارسی، یہودی، مسلمان و دیگر مذاہب کے لوگ آپس میں بھائی چارے سے رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کرتے ہیں اور ان ہی تہواروں کی بدولت شہر کراچی میں کم از کم 50 دن کی چھٹیاں ہوتی ہیں جس کی بنیاد پر اگر اسے سب سے زیادہ تعطیلات والا شہر کہا جائے تو بھی قطعی طور پر بےجا نہ ہوگا۔

الیگزینڈر جان ایف بیلی اپنی کتاب ’’کراچی: پاسٹ، پریزنٹ اینڈ فیوچر‘‘ میں اِس بات کا بھی ذکر کرتا ہے کہ شہر میں مسلمانوں کے تین بزرگوں منگھوپیر، منوڑہ اور لیاری ندی کے کنارے واقع میراں پیر کے مزارات پر ہر سال پابندی کے ساتھ عرس منعقد ہوتے ہیں مگر اِن میں سب سے بڑا عرس مبارک کلفٹن میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کا ہوتا ہے جس میں ہندو، مسلمان اور عیسائیوں سمیت تمام مذاہب کے لوگ شرکت کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عبداللہ شاہ غازی کا مزار ماضی میں صرف ایک ٹیلے پر موجود تھا اور اِس کے چہار اطراف سمندر کی بپھری موجیں ہوتی تھیں۔ اور اِسی مزار سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ہندو برادری کا سب سے بڑا رتنیشور مہادیو مندر بھی عین سمندر کے سامنے ایک سرنگ میں وا قع ہے، جہاں پوجا پاٹ بھی کی جاتی ہے۔

Read Previous

طاعون سے بچاؤ کے لئے احادیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ

Read Next

لعل شہباز قلندر کو لعل کیو ں کہا جاتا ہے؟

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے