سندھ کا مولانا رومی:صوفی بزرگ شاہ عبدالطیف بھٹائی

سندھ کا مولانا رومی:صوفی بزرگ شاہ عبدالطیف بھٹائی

قادر خان یوسف زئی

سالِ رواں بھی پیر 14 صفر 1441ھ بمطابق 14 اکتوبر 2019 کو معروف صوفی بزرگ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا 276 واں عرس انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے۔سندھ دھرتی کی زمین صوفی بزرگوں کی سرزمین کہلاتی ہے۔ عظیم صوفی شاعر نے اپنی شاعری کے ذریعے امن و آشتی کا پیغام عوام الناس تک پہنچایا۔ شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی ولادت 1689 مطابق 1101ھ میں موجودہ ضلع مٹیاری کی تحصیل ہالا میں ہوئی۔ آپ کے والد سید حبیب شاہ ہالا حویلی میں رہتے تھے۔ اور موصوف کا شمار اس علاقے کی برگزیدہ ہستیوں میں تھا۔ شاہ عبد اللطیف نے ابتدائی تعلیم نورمحمد بھٹی سے حاصل کی اور بھٹ شاہ بارہ میل دور گاؤں وائی کے رہنے والے اور مشہور مدرس تھے، آپ نے اپنے والد شاہ حبیب سے دینی تعلیم حاصل کی۔ شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی ولادت کے کچھ دنوں بعد ان کے والد اپنے آبائی گاؤں چھوڑ کر کوٹری میں آکر رہنے لگے۔ پانج چھ سال کی عمر میں آخوند نور محمد کی مشہور درسگاہ میں تحصیل علم کے لیے بھیجے گئے۔ عام روایت ہے کہ شاہ صاحب نے الف کے سوا کچھ اور پڑھنے سے صاف انکار کر دیا۔جن دنوں شاہ حبیب کوٹری میں آ کر آباد ہوئے ان دنوں کوٹری میں مرزا مغل بیگ ارغون کا ایک معزز خاندان سکونت پذیر تھا۔ شاہ حبیب کی پاکبازی اور بزرگی نے مغل بیگ کو بہت متاثر کیا۔ کچھ دنوں بعد وہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ مریدوں میں شامل ہو گئے۔ جب کبھی مرزا کے گھر میں کسی کو کوئی بیماری ہوتی شاہ حبیب کو دعائے صحت کے لیے بلایا جاتا۔ گو کہ مرزا کے گھر میں سخت قسم کا پردے کا رواج تھا لیکن شاہ حبیب کے لیے اس رسم کو بالکل ختم کر دیا گیا۔ گھر کی مستورات بلا تکلف ان کے سامنے آجاتیں اور حسب ضرورت دعا تعویذ لے کر آنے والی بلاؤں کو ٹالتیں۔ آپ نے سندھی شاعری سے لوگوں کی اصلاح کی۔ شاہ جو رسالو آپ ہی کی ایک عظیم کوشش ہے۔آپ 1752ء میں 63 سال کی عمر میں بھٹ شاہ میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ہر سال اس دن کے موقع پر شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی عرس تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

عشق کا تصور بنیادی طور پر ان کے صوفیانہ مسلک ہی کا حاصل ہے، چنانچہ انہوں نے اس مضمون کو بار بار مختلف انداز میں زبان دی ہے۔
ہیں ازل ہی سے بے نیازِ الم
راز دارانِ جلو معبود
گمرہی دور ہی رہی ان سے
مل گئی ان کو منزلِ مقصود
واقفِ وحدتِ احد ہو کر
ہوگئے ایک شاہد و مشہود
شاہ عبد اللطیف بھٹائی خالق ومخلوق کی وحدت کا اعلان کرتے ہوئے اپنی داستان ’سرکَلیان‘ میں اعلان کرتے ہیں۔

ہوگئے ایک مل کے ذات و صفات
مٹ گیا فرقِ عاشق ومعشوق
ہم ہی کوتاہ بیں رہے ورنہ
وہی خالق ہے اور وہی مخلوق
شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے نزدیک خالق ومخلوق، رہبر وراہی اور ذات وصفات کی یہی یکجائی کثرت اور وحدت کے تضاد کو بھی حل کر دیتی ہے۔ ’سرکلیان‘ میں شاہ فرماتے ہیں۔
کبھی وحدت کی تنہائی میں کثرت
کبھی کثرت کے ہنگاموں میں وحدت
مگر ان سارے ہنگاموں کی تہہ میں

شاہ جو رسالو شاہ عبدالطیف بھٹائی کی صوفیانہ شاعری کا مجموعہ ہے۔ آپ نے یہ رسالہ بھٹ شاہ کے قریب کراڑ جھیل کے کنارے بیٹھ کر لکھا۔ آپ نے رسالے میں اللہ تعالی کے عشق میں شعر کہے۔ شاہ جو رسالو 30 سروں پر مشتمل ہے۔ جن میں خصوصی طور پر سات سر سورمیوں (سورمی بہادر خاتون) سے منسوب کئے گئے ہیں۔یہ رومانوی داستانوں کے خواتیں کردار ماروی، مومل، سسئی، سوہنی، نوری، سورٹھ اور لیلاں ہیں، جن کے لازوال عشق، محبوب سے بچھڑنے کا درد جھیلنے اور محبت میں تڑپنے اور محبوب سے ملنے کے لیے کی گئی جدوجہد کو بھی بھٹائی نے اپنی شاعری میں سراہا ہے۔کراچی سے200کلو میٹر کی مسافت پر بھٹ شاہ شہر میں عظیم صوفی بزرگ کی زندگی میں ہی مح?لس سماع کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا جو 300برسوں سے بلا ناغہ جاری ہے۔

محفل سماع احاطہ مزار میں منعقد ہوتی ہے اور بھٹائی فلسفے سے متاثر فقیر جو خود کو ”راگی کہلواتے ہیں۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی کی ایجاد کردہ پانچ تاروں والے مخصوص طرز پر طنبورہ پرصوفی شاعری کو گاتے ہیں۔طنبورہ بظاہر تو ایک ساز ہے جو کہ پانچ تاروں کا مرکب ہے، مگر ان تاروں پر جب فقیروں کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں تو چاہے آپ ذہنی طور دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، مگر طنبورے کی تار کو چھیڑنے والے فقیر جیسے آپ کے من کی تار کو چھیڑ لیتے ہیں، اور اگر کوئی من کی تار کو چھیڑ لے تو اندر کے سر اور آلاپ خوبخود بجنے لگتے ہیں۔طنبورہ کی خاصیت میں ایک خصوصی انفرادیت بھی ہے۔طنبورے میں استعمال ہونے والی پانچ تاروں میں سے دو کو ‘جاڑیوں ‘ یعنی جڑواں کہا جاتا ہے، یعنی انسان کو جوڑے کی صورت میں تخلیق کیا گیا ہے اس لیے یہ دو تاریں مرد اور عورت یا نر اور مادہ کو بیان کرتی ہیں۔ یہ راگی مرد حضرات ہوتے ہیں لیکن گذشتہ کئی برس دیکھنے میں آرہا ہے کہ ایک خواتین کا گروپ بھی بھٹائی کی صوفیانہ شاعرانہ کو گانے کا عزم رکھتی ہیں۔ یہ گروپ شاہ کی شاعری میں اپنے آپ کو ڈھال کر رومانی داستانوں کے خواتین کردار بنتی ہیں۔ ان کے لئے ”سو میا ں“ کی مخصوص اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔خواتین اپنا گروپ بنا کر شاہ کے کلام کو احاطہ مزار میں گانے کا عزم رکھتے ہوئے اپنے گروپ کو مکمل کررہی تھیں۔ توقع ہے کہ خواتین کے اس گروپ نے تین خواتین کو تلاش کرلیا ہوگا جو شاہ لطیف کے کلام کو گانا چاہتی ہیں۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی نے سندھ دھرتی میں فارسی کے مقابلے میں سندھی زبان کو ایک خصوصی اہمیت دے کر سندھی زبان کو منفردمقام دیا بلکہ ثابت بھی کیا کہ کسی بھی زبان کے مقابلے میں سندھی زبان کا مقابلہ کرنا اور سندھی زبان کو کمتر سمجھے جانا غلط ہے۔ شاہ صاحب کی شاعری کی میں عشق، وطن سے محبت، محنت کشوں کی داستانیں اور نیک مقاصد کے حصول کے لئے دلپذیرترغیبات ہیں جو ان کے کلام کا خاصہ ہیں۔ سندھ میں مزارات میں دھمال کو ایک خصوصی اہمیت حاصل ہے، سندھ کے کئی درگاہوں و مزاروں میں ہمیں بلا امتیاز کئی لوگ ملیں گے جو کسی مسلک و مذہب کے بغیر اپنے عقیدت کے اظہار کے لئے سماں باندھ دیتے ہیں۔ شاہ لطیف کے کلام کو گانے والے طنبورے کے تاروں سے ایسا الاپ چھیڑتے ہیں کہ جو سندھی زبان سے واقف بھی نہیں ہوتا وہ بھی روحانی دنیا میں گم سا ہوجاتاہے۔ شاہ کا کلام اس کے کانوں میں رس گھولتا ہے اور بے چینی و درد کی کیفیت کی اذیت کو کم ہوتا محسوس کرتے ہوئے سکون کو پالیتا ہے۔
شاہ عبدالطیف بھٹائی کے کلام کا بڑا حصہ حکمرانی کے جبر کے مختلف پہلوؤں کو آشکارہ کرتا نظر آتا ہے۔ بالخصوص دہقانوں، خانہ بدوشوں اور مچھیروں کی زندگیوں کی مشکلات کے ایک ایک پہلو کو سامنے لاتے ہیں اور اپنی شاعری میں بیان کرتے ہیں۔ ریت کے ٹیلے پر بیٹھ کر صوفی شاعر کے خیالات شفافیت کے ساتھ رقم بند ہوتے چلے جاتے تھے اور ان دہقانوں، خانہ بدوشوں اور مچھیروں کا درد ان کے کلام میں بڑے دلسوز انداز میں سامنے آتا ہے۔ شاہ جو رسالو و ان کے کلام کی مکمل تشریح اپنے لفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی، لیکن فکر شاہ عبدالطیف بھٹائی کو ان کے کلام کے مخصوص انداز سے سمجھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ شاہ کے کلام کوسمجھنے کے لئے شاہ کا فقیر بننا پڑتا ہے۔

بحر ہیبت فَزا کی طغیانی
شور انگیز و فتنہ ساماں ہے
ان جنریروں سے بھی بچا ہم کو
جن کے گرد اک مہیب طوفاں ہے
زد میں اب کَشتیوں کے تختے ہیں
اے خدا تو ہی بس نگہباں ہے
شاہ کی داستان ’سرسریراگ‘ تو تمام تر ایک چشم کشا اور ذہنوں کو جھجھوڑ دینے والے کلام پر مشتمل ہے۔ شاہ نے مچھیروں، ملاحوں اور ماہی گیروں کو اپنے استعاروں میں استعمال کیا ہے اورزمانے کے پر آشوب دور کی عکاسی میں خطرات و بقا کے راستوں کی نشا ندہی کی ہے۔ ہر شاعر کا مخصوص استعارہ اس کے فکری رجحان کی نشان دہی کرتا ہے۔ شاہ نے بھی اپنے کلام میں اپنی فکر سمجھانے کے لئے عام افراد کا استعارہ استعمال کیا۔

اِدھر دلدل ادھر موجوں کی شورش
میں اپنی ناؤ کو کیسے بچاؤں
اگر تیرا کرم شامل ہو یا رب!
بخیروعافیت اس پار جاؤں
یہی ایک فکر دل کو رات دن ہے
بہت مجبور ہیں طوفاں کے مارے
تلاطم خیز ہے یہ بحرِ ہستی
لگے گی کس طرح کشتی کنارے
معاشرے میں نچلے و پسے طبقوں کے ساتھ ناانصافیاں اور ان کے خلاف ڈر کر خاموش رہنا زمانے کی ایک ریت سی بن گئی ہے، لیکن شاہ نے اپنے کلاموں میں اپنے دور کے حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی کا ذکر بڑی بے خوفی سے کیا ہے۔ انہوں نے حکمرانوں کو نوشتہ دیوار بھی دکھایا اور خدا کے ڈر سے بھی روشناس کرایا۔ انہوں نے مظلوم طبقے کی نمائندگی کرتے ہوئے بے باک، بے خوفی سے حکمران طبقے کو بے نقاب کیا۔

ناخداؤں نے ہم کو دکھلائے
جانے کتنے ہی ساحلوں کے خواب
اور وہاں کی خبر نہ دی کوئی
ہے جہاں صبر آزما گرداب

Read Previous

بی بی پاک دامن: ’اِدھر سے نہیں تو پھر کس در سے ملے گا ہمیں‘- بی بی سی رپورٹ

Read Next

سچل سرمست کی اردو شاعری اور ان کے نظریات کا جائزہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے