بی بی پاک دامن: ’اِدھر سے نہیں تو پھر کس در سے ملے گا ہمیں‘- بی بی سی رپورٹ

بی بی پاک دامن: ’اِدھر سے نہیں تو پھر کس در سے ملے گا ہمیں‘- بی بی سی رپورٹ

پاکستان میں کئی لوگوں کے لیے مزاروں کی روحانی اہمیت ہے لیکن کیا اس کے کوئی نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ تین قسطوں پر مشتمل سیریز کے آخری حصے میں نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ پہنچے لاہور میں بی بی پاک دامن کے دربار جہاں روزانہ ہزاروں لوگ اپنے جسمانی اور روحانی مسائل کے حل کے لیے منتیں چڑھانے آتے ہیں اور جاننے کی کوشش کی کہ کیا اس عمل میں انسانی نفسیات بھی کارفرما ہوتی ہے۔

منصور رضا شیرازی درباروں، پیروں فقیروں کو ماننے والوں میں سے ہیں۔ چند برس قبل جب روزگار کی غرض سے لاہور آئے سب بڑے درباروں پر حاضری دی۔ گڑھی شاہو کے علاقے میں واقع بی بی پاک دامن کے دربار پر پہنچے تو وہاں ایک دیرینہ منت مان ڈالی۔

انھیں نرینہ اولاد کی خواہش تھی۔ چار ماہ قبل ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تو منصور کا عقیدہ مزید پختہ ہو گیا۔

اب وہ اس دربار پر زیادہ باقاعدگی سے آتے ہیں۔ لاہور ریلوے سٹیشن سے شِملہ پہاڑی کی جانب آتے ہوئے ایمریس روڈ پر ذرا ہٹ کے قدیم لاہور شہر کی پیچیدہ سی گلیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

انھی پُررونق گلیوں کے بیچ سے گزرتے وہ شام کے وقت بی بی پاک دامن کے باہر پہنچتے ہیں، ایک دکان سے نذرانے کی مٹھائی خریدتے ہیں اور دربار کے احاطے میں داخل ہونے سے پہلے جھُک کر سلام کرتے ہیں۔

’ہمارا تو عقیدہ ہے اس در پر، کیونکہ یہ حضرت علی کی بیٹی کا در ہے۔ ادھر سے نہیں تو پھر کس در سے ملے گا ہمیں۔ ساری کائنات ان ہی کے صدقے کھا رہی ہے۔‘

اس دربار کی جانب ان کی کسی نے رہنمائی نہیں کی۔ وہ اس سے قبل بھی کسی اور غرض سے بھی یہاں آتے رہے ہیں۔ ’مجھے نوکری نہیں مل رہی تھی اور یہاں دعا مانگنے سے مجھے نوکری بھی اچھی ملی ہے۔‘

بی بی پاک دامن تمام مسالک کے لیے متبرک مقام تصور کیا جاتا ہے۔ تاثر یہ ہے کہ یہاں چھ مقدس بیبیوں کی قبریں واقع ہیں۔ وہ بیبیاں کون ہیں اس کا کوئی مستند تاریخی حوالہ نہیں ملتا۔

یہاں موجود مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ چھ قبروں میں سے بی بی حج نامی کتبے والی قبر دراصل مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی کی صاحبزادی حضرت رقیہ کی ہے۔ تاہم اس دعوے اور اس سے جڑی روایت کہ وہ واقعہ کربلا کے بعد یہاں کیسے پہنچیں اور ان کی وفات کیسے ہوئی، اس کی تصدیق کے لیے کوئی تاریخی حوالہ نہیں ملتا۔

بی بی پاک دامن کے حوالے سے یہ بھی مشہور ہے کہ لاہور ہی میں دفن گیارہویں صدی کے صوفی داتا گنج بخش بھی یہاں فاتحہ پڑھنے آتے تھے۔ بی بی پاک دامن پر حاضری دینے والے زائرین میں قدرتی طور پر خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔

منصور شیرازی کی طرح ہر ایک کے مختلف مسائل ہوتے ہیں۔ دربار پر کام کرنے والے بشیر سائیں مجاور کہتے ہیں خواتین کی منتیں بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی بھی ہوتی ہیں۔

چار دیواری کے اندر ایک کونے میں پڑے تیل کے دیے صاف کرتے ہوئے بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں وہ کہتے ہیں ’کئی تو آ کر یہ شکایت بھی کرتی ہیں کہ ان کے خاوند ان کی بات نہیں مانتے یا انھیں پیسے نہیں دیتے۔‘

منتیں ماننے کے کئی طریقے ہیں۔ بی بی پاک دامن میں ان میں زیادہ تر نظر آتے ہیں۔ بشیر سائیں کہتے ہیں ’دربار پر پڑے دیوں میں پہلے سرسوں کا تیل ڈالا جاتا ہے۔ جب منت پوری ہو جائے تو لوگ پھر دیسی گھی لا کر ڈالتے ہیں۔‘

ساتھ ہی چند کتبے نصب ہیں۔ ان کی آہنی جالی کے ساتھ سیکنڑوں چھوٹے بڑے تالے لگے نظر آتے ہیں۔ بشیر سائیں کہتے ہیں یہ زیادہ تر خواتین لگا جاتی ہیں۔

’منت مانتے وقت تالا لگایا جاتا ہے، جب پوری ہو جائے تو آ کر کھولنا ہوتا ہے۔‘

Read Previous

لعل شہباز قلندر کو لعل کیو ں کہا جاتا ہے؟

Read Next

سندھ کا مولانا رومی:صوفی بزرگ شاہ عبدالطیف بھٹائی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے